Showing posts with label Hajj. Show all posts
Showing posts with label Hajj. Show all posts
Aug 20, 2018
شیطانی انسپائریشن کو رَد کرنا
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Devil,
Hajj,
Hikmet,
khwaja shamsuddin azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohaniat,
Shetani Inspiration,
Spiritualism,
Sufism
Aug 26, 2017
ملتزم
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Hajj,
Khwaja Shamsddin Azeemi,
Let's Think,
Multazam,
Muraqba,
Rohaniat,
Spiritualism,
Sufism
Aug 22, 2017
فضائلِ حج - تحریر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
فضائل
حج:
قرآن
پاک اور احادیث میں حج کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے جب بیت اللہ شریف
کی تعمیر پوری مکمل کر دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا
اعلان کر دو۔
حضرت
ابراہیمؑ نے عرض کیا: ’’یا اللہ! میری آواز کس طرح پہنچے گی۔ یہاں ہم تین آدمیوں
کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔‘‘
اللہ
تعالیٰ نے فرمایا:
’’ابراہیم!
آواز پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
حضرت
ابراہیمؑ نے حج کا اعلان کر دیا۔ اس آواز کو آسمانوں اور زمین میں اور اس کے درمیان
جتنی بھی مخلوق ہے سب نے سنا۔
موجودہ
دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ آواز ہزاروں میل دور سنی جا سکتی ہے۔ لاسکی نظام کے تحت
یا برقی نظام کے بغیر ہوا کے دوش پر آواز پھیلتی ہے۔ اور جگہ جگہ سنائی دیتی ہے۔
یہ جتنے سائنسدان ہیں۔ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں۔ دماغ، عقل، شعور و فہم و
تفکر سب اللہ کا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر فکر و فہم نہ دے تو کوئی آدمی سائنسدان
نہیں بن سکتا۔ اللہ تعالیٰ ماں کے بطن سے پیدا نہ کرے تو کوئی سائنسدان نظر نہیں
آئے گا۔ جس اللہ نے سائنسدان تخلیق کر دیئے ہیں۔ اس قادر مطلق کے لئے یہ مشکل نہیں
تھا اور نہیں ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی آواز کو پوری کائنات میں پھیلا دے اور کائنات
کی مخلوق اس آواز کو سن لے۔ حج کا یہی وہ اعلان ہے جس کے جواب میں حاجی حضرات حج
کے دوران لبیک الھم لبیک کہتے ہیں۔
رسول
اللہﷺ کا ارشاد ہے:
’’جس
شخص نے بھی خواہ وہ پیدا ہو چکا تھا یا ابھی عالم ارواح میں تھا حضرت ابراہیمؑ کی
آواز سن کر لبیک کہا وہ حج ضرور کرتا ہے۔‘‘
یہ
بھی ارشاد ہے کہ جس نے ایک مرتبہ ’’لبیک‘‘ کہا وہ ایک مرتبہ حج کرتا ہے جس نے دو
مرتبہ حج کہا وہ دو مرتبہ حج کرتا ہے اور جس نے زیادہ مرتبہ لبیک کہا اس کو اتنے
ہی حج نصیب ہوتے ہیں۔
ترجمہ:
’’حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں۔ پس جو شخص ان ایام میں اپنے اوپر حج مقرر کر
لے تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے اور نہ حکم عدولی درست ہے اور نہ کسی قسم کا
جھگڑا زیبا ہے اور جو نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔‘‘
(سورۃ
البقرہ: ۲۵)
یہود
کے علماء نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کیا کہ تم قرآن پاک میں آیت پڑھتے ہو اگر وہ آیت
ہم نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا۔’’وہ کون سی آیت ہے؟‘‘
یہودی علماء نے عرض کیا۔
’’الیوم
اکملت لکم دینکمo‘‘
حضرت
عمرؓ نے فرمایا:
’’مجھے
معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کہاں نازل ہوئی۔ ہمارے یہاں دو عیدیں ہیں ایک جمعہ
کا دن، دوسرا عرفے کا دن۔ عرفے کا دن بھی حاجی کے لئے عید کا دن ہے۔‘‘
یہ
آیت جمعہ کے دن شام کے وقت عصر کے بعد اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہﷺ عرفات کے
میدان میں اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔
حدیث
شریف میں ہے کہ اس آیت کے بعد حلال و حرام کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل نہیں
ہوا۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ کی اونٹنی بوجھ کی وجہ سے بیٹھ گئی۔
حضرت
عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضورﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی نازل ہوتی تو اونٹنی
اپنی گردن گرا دیتی اور جب تک وحی کا سلسلہ قائم رہتا اونٹنی حرکت نہیں کر سکتی
تھی۔
حج
کے اہم فضائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تکمیل دین سے متعلق آیت مبارکہ حج کے موقع
پر نازل ہوئی۔
ترجمہ:
’’آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل اور مکمل بنا دیا اور تم پر اپنا
انعام پورا کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارے دین بننے کے لئے پسند کر لیا۔‘‘
(سورۃ
المائدہ۔۱)
حج
اور عمرہ کے فضائل کے بارے میں بہت ساری احادیث ہیں۔
ترجمہ:’’حضورﷺ
کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث ہو(یعنی فحش
بات) اور نہ فسق ہو(یعنی حکم عدولی) وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جیسا اس دن تھا جس
دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔‘‘
(متفق
علیہ مشکوٰۃ)
*
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ صفا مروہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ ایک جماعت آئی جو اپنے
اونٹوں سے اتری اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ صفا مروہ کے درمیان سعی کی حضرت
عمرؓ نے سے دریافت کیا، ’’تم لوگ کون ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ عراق کے لوگ ہیں۔
حضرت
عمرؓ نے فرمایا کہ ’’یہاں کیسے آنا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا، حج کے لئے۔
حضرت
عمرؓ نے پوچھا۔’’کیا کوئی اور غرض بھی ہے۔ مثلاً اپنی میراث کا کسی سے مطالبہ ہو
یا کسی قرض دار سے روپیہ وصول کرنا ہو یا کوئی اور تجارتی غرض ہو۔‘‘
انہوں
نے کہا۔ ’’نہیں کوئی دوسری غرض نہیں ہے۔‘‘
آپؓ
نے فرمایا:’’تمہارے پہلے سارے گناہ معاف ہو گئے ہیں۔‘‘
*
نبی کریم نے ایک حدیث پاک میں ارشاد فرمایا کہ حج کی خوبی نرم کلام کرنا اور لوگوں
کو کھانا کھلانا ہے لہٰذا کسی سے سختی سے گفتگو کرنا، نرم کلام کے منافی ہے۔ اس
لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں پر بار بار اعتراض نہ کرے، کسی کے ساتھ سختی سے
پیش نہ آئے، ہر شخص سے تواضع، حلم اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے۔
*
حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے۔
’’نیکی
والے حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
*
ایک جماعت سعدون خولانیؒ کے پاس آئی اور ان سے یہ قصہ بیان کیا کہ قبیلہ کنامہ کے
لوگوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔
رات
بھر اس پر آگ جلاتے رہے مگر آگ نے اس پر ذرا بھی اثر نہیں کیا۔ سعدونؒ نے فرمایا:
’’شاید
اس شخص نے تین حج کئے ہونگے۔‘‘
لوگوں
نے کہا۔ ’’جی ہاں! اس نے تین حج کئے تھے۔‘‘
سعدونؒ
نے کہا۔’’مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فریضہ ادا
کیا۔ جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ کو قرض دیا اور جو تین حج کرنا ہے تو اللہ جل
شانہ اس پر آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘
امام
غزالیؒ نے ایک صاحب کشف صوفی کا قصہ لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
عرفہ
کا دن شیطان نظر آیا۔ بہت ہی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ نقاہت سے کمر جھکی ہوئی تھی۔ ان بزرگ نے شیطان سے
پوچھا تو کیوں رو رہا ہے؟ اس نے جواب دیا۔ مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ حاجی لوگ بلا
کسی دنیاوی غرض کے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ مجھے یہ غم ہے کہ اللہ پاک کی
ذات ان لوگوں کو نامراد نہیں رکھے گی۔ انہوں نے پوچھا تو دبلا کیوں ہو گیا ہے؟ اس
نے کہا۔ گھوڑوں کی آواز سے جو ہر وقت اللہ کے راستوں میں (حج، عمرہ، جہاد وغیرہ)
پھرتے رہتے ہیں۔ کاش یہ سواریاں میرے راستے میں نہ ہوتیں۔ انہوں نے پوچھا۔ تیرا
رنگ زرد کیوں پڑ گیا ہے؟ شیطان نے کہا۔ لوگ ایک دوسرے کو نیکیوں کی تلقین کرتے ہیں
اور لوگ آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ آپس
کی امداد و اعانت گناہ کرنے میں ہوتی تو میں بہت خوش ہوتا۔ ان بزرگ نے پوچھا تیری
کمر کیوں جھک گئی ہے؟ شیطان نے کہا۔ بندہ ہر وقت یہ کہتا ہے کہ یا اللہ خاتمہ
بالخیر عطا کر۔ ایسا شخص جس کو اپنے خاتمہ کی ہر وقت فکر رہے نیک عمل کرتا ہے۔
ابن
شمامہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمروبن العاصؓ کے پاس حاضر ہوئے ان کا آخری وقت
تھا۔ حضرت عمرؓ بہت دیر روتے رہے۔ اس کے بعد اپنے اسلام لانے کا قصہ سنایا اور
فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا کیا تو میں
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بیعت کے لئے ہاتھ
دے دیجئے۔ میں مسلمان ہوتا ہوں۔ حضورﷺ نے اپنا دست مبارک پھیلایا تو میں نے اپنا
ہاتھ کھینچ لیا۔
حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’کیا بات ہے؟‘‘
میں
نے عرض کیا۔ حضورﷺ! میری ایک شرط ہے اور شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پچھلے گناہ
معاف کر دے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’عمر!
تجھے یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام ان سب گناہوں کو دھو دیتا ہے جو کفر کی حالت میں
کئے گئے ہوں۔ ہجرت ان سب نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے جو ہجرت سے پہلے کی ہوں اور حج
ان سب قصوروں کو صاف یعنی خاتمہ کر دیتا ہے جو حج سے پہلے کئے ہوں۔‘‘
حضورﷺ
عرفہ کی شام عرفات کے میدان میں امت کی مغفرت کے لئے بہت الحام و زاری سے دعا
مانگتے رہے۔ رحمت الٰہی کو جوش آ گیا۔ ارشاد ہوا۔ ’’میں نے تمہاری دعا قبول کر لی
اور میرے بندوں نے جو گناہ کئے ہیں وہ معاف کر دیئے۔ البتہ ایک دوسرے پر جو ظلم
کئے ہیں ان کا بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے
پھر درخواست کی۔
’’یا
اللہ! تو اس پر قادر ہے کہ مظلوم کے ظلم کا بدلہ عطا فرما دے اور ظالم کے قصور کو
معاف کر دے۔‘‘ صبح مزدلفہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ اس وقت حضورﷺ
نے تبسم فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! آپﷺ میں ایسی حالت(الحام و
زاری کی) میں تبسم فرمایا۔
رسول
اللہﷺ نے فرمایا:
’’جب
اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی تو شیطان آہ و واویلا کرنے لگا اور غم سے مٹی
اپنے سر پر ڈالنے لگا۔‘‘
ایک
صحابیؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا۔
’’یا
رسول اللہﷺ! ہم اپنے مردوں کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں۔ حج کرتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے
مغفرت کرتے ہیں۔
یہ
ان تک پہنچتا ہے؟‘‘
حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’پہنچتا ہے اور وہ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسا
کہ تمہارے پاس طباق میں کوئی ہدیہ پیش کیا گیا ہو۔‘‘
حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے۔
’’اللہ
تعالیٰ(حج بدل میں) ایک حج کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتے ہیں۔ ایک
مردہ (جس کی طرف سے حج بدل کیا جا رہا ہے) دوسرا حج کرنے والا۔ تیسرا وہ شخص جو حج
کرا رہا ہے۔‘‘
رسول
اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ:
’’حاجی
کی سفارش چار سو گھرانوں میں مقبول ہوتی ہے اور حاجی اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو
جاتا ہے جیسا پیدائش کے دن تھا۔‘‘
حضور
اقدسﷺ کا ارشاد ہے:
’’جب
کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرو۔ اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ
اپنے گھر میں داخل ہو اس سے اپنی مغفرت کے لئے دعا کراؤ۔‘‘
حضرت
عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
’’میں
نے حضورﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہارا جہاد حج
ہے۔‘‘
ایک
صحابی عورت نے حضورﷺ سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہﷺ! میرے والد بوڑھے ہیں اور سواری
پر سوار بھی نہیں ہو سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہوں۔ حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’ہاں! ان کی طرف سے حج کر سکتی ہو۔‘‘ ابن موفق کہتے
ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی طرف سے متعدد حج کئے۔ ایک مرتبہ خواب میں حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا۔’’اے ابن موفق! تو نے میری طرف
سے حج کئے؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ جی حضورﷺ کئے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔’’تو نے
میری طرف سے لبیک کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! جی ہاں۔ حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’میں قیامت کے روز اس کا بدلہ دونگا کہ حشر کے میدان
میں تیرا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کر دونگا۔
حوالہ
کتاب روحانی حج و عُمرہ
از
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
http://iseek.online/?p=11902
http://iseek.online/?p=11902
Labels:
Azeemia,
Azeemisoul,
Dawat-e-Fikr,
Fazael Hajj,
Hajj,
Hajj k Fazel,
Khwaja Shamsddin Azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohaniat,
Spiritualism,
Sufism
Aug 6, 2016
حیاتِ نبیﷺ بعد از وصالِ نبیﷺ
Labels:
Azeemi,
Azeemisoul,
dawatfikr,
Hajj,
iSeek.online,
khwaja shamsuddin azeemi,
Muraqba,
Roohani Hajj,
Roohani Umrah,
Sufism,
Umrah,
خواجہ شمس الدین عظیمی,
روحانی حج و عمرہ
جلدی کیجئے، میں آپ کا مشتاق ہوں
Labels:
Azeemi,
Azeemia,
Azeemisoul,
Dawat-e-Fikr,
dawatfikr,
Hajj,
Herm,
iSeek.online,
jaldi kejeay,
Muraqba,
Roohani Haj,
Roohani Umrah,
Sufism,
Umrah,
Ziarat e Nabi
Sep 23, 2015
وقوفِ عرفات کی دُعا : از حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
یہ دعا قرآن پاک کی آیتوں
اور مشہور و مقبول دعاؤں کا اردو ترجمہ ہے تا کہ ہر شخص سمجھ کر اور دل لگا کر
پڑھے، ہر زبان کا پیدا کرنے والا آپ کی زبان کو جانتا اور سمجھتا ہے۔ انتہائی عجز
و انکسار کے ساتھ اس کو پڑھئے۔ دل اور آنکھیں بھی دعا میں زبان کا ساتھ دیتی ہیں۔
’’اے میرے اللہ! تو نے
ہمیں دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے کہ
’’مجھ سے مانگو میں پورا کرونگا۔‘‘
اے ہمارے اللہ! ہماری
کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرما، اپنی رحمت و کرم سے
ہمارے تمام کاموں میں آسانیاں پیدا کر۔
اے اللہ! میں اس مبارک
سفر میں اور اس میدان عرفات میں تجھ سے تیری دائمی خوشنودی اور رضامندی کے ساتھ ہر
قسم کی آسانی اور سہولت کا طلبگار ہوں، تو ہی ہمارا رفیق و مددگار ہے تو ہی ہمارے
بال بچوں اور گھر والوں کا محافظ و نگہبان ہے، اس سفر کی ہر زحمت کو قبول فرما اور
ہر کام میں ہمیں نیک نیتی پر قائم رکھ۔ میں اس میدان عرفات میں سچے دل سے اقرار
کرتا ہوں کہ تیرے سوا میرا کوئی معبود و مالک نہیں اور حضرت محمدﷺ تیرے خاص بندے
اور برحق رسول اور پیغمبر ہیں۔
اے دنیا اور آخرت کے
مالک، اے بے پناہ رحمت اور بخشش والے، مجھ پر تیری کس قدر بے شمار نعمتیں ہیں جن
میں ہر نعمت پر تیرے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا، مجھ پر رحم و کرم کرنے والے،
مجھے فقر و تنگدستی سے ذلیل نہ کر، قرض کی بدنامی سے مجھے بچا اور جو نعمتیں تو نے
مجھے دی ہیں ان کو مجھ سے واپس نہ لے، صحت، عافیت کی زندگی عطا فرما، اپنی تمام
نعمتوں پر تجھے یاد کرنے، تیرا شکر اور عبادت کا پورا حق ادا کرنے میں میری مدد
فرما، ہر قسم کے شر فساد اور اس زمانے کے ہر فتنہ سے میری اور تمام مسلمانوں کی
حفاظت فرما تو ہی اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔
اے ہمارے اللہ! ہماری
نماز، ہمارا حج، ہماری زکوٰۃ، ہمارے روزے، ہماری طرف سے قربانی، ہماری زندگی اور
موت صرف تیرے لئے ہے۔ میں تجھ سے تیری رضا، تیری رحمت، تیری خوشنودی کا طلبگار
ہوں۔ یہ سب کچھ میری عاجزانہ کوشش ہے اور تجھ پر میرا بھروسہ ہے۔
اے میرے اللہ! میں اس وقت
تیری پاک سر زمین اور رحمت کے زیر سایہ ہوں۔ یہ وقت تیری رحمت و مغفرت اور بخشش کا
ہے، توبہ کرنے، گناہ معاف کرانے اور تیرے کرم و احسان کی امید کا ہے، ہماری دعاؤں
کے سننے اور قبول کرنے کا یہ خاص مقام ہے۔ ہر شخص اپنی دعائیں تیری بارگاہ میں پیش
کر رہا ہے اور تو ہی اپنی رحمت سے ان کو قبول کرنے والا ہے۔ اس میدان عرفات میں جو
آج تیری تجلیات اور برکتوں کا ایک خاص دن اور مقام ہے میری یہ حاضری عمر بھر میں
آخری نہ ہو اور بار بار مجھے یہاں حاضری کی سعادت و نعمت حاصل رہے۔
اے اللہ! ہمیں ہدایت نصیب
فرما، ہمارے ظاہر اور باطن کی اصلاح فرما تا کہ ہم گمراہیوں سے دور رہیں اور ان
مقبول بندوں میں شامل فرما جو سچے دل سے ایمان لائے ہیں۔ تو پاک ہے اور بے عیب ہے،
ہم تیری نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتے۔ ہم تیری نعمتوں کے شکر کا حق ادا نہیں کر
سکتے۔ تو ہی سب سے زیادہ رحیم و کریم ہے اور ہر مانگنے والے کو سب کچھ دینے والا ہے۔
اے کریم ہمیں عافیت و سلامتی عطا کر، اپنی اطاعت فرمانبرداری کی ہمت و توفیق نصیب
کر، ہماری یہ زندگی تیری امانت ہے۔ اس لئے برحق دین اسلام پر ایسی حالت میں تیرے
سامنے حاضر ہوں کہ تو ہم سے ہر طرح خوش اور راضی ہو۔ تیرے سوا میرا کوئی مالک،
میرا کوئی پالنے والا اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس کلمہ پر میری
زندگی ختم ہو۔
اشھدان لا الہ الا اللّٰہ
وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ
تو ہی آسمانوں اور زمین
کا بنانے والا اور دنیا و آخرت میں ہمارا مالک و مددگار ہے، اس تمنا کو قبول فرما
کر سچے مسلمان کی طرح میرا انجام بخیر ہو۔ تیرے نیک اور مقبول بندوں کی رفاقت حاصل
رہے۔ تو نے ہر چیز کو اپنی رحمت میں لے رکھا ہے تو ہر چیز سے باخبر ہے تیری بتائی
ہوئی راہ پر ہمیشہ چلنے، گناہوں سے بچنے اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ تو نے
ہمیں جتنا علم دیا ہے ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے تو ہی سب کچھ جاننے والا ہے۔
میں تجھ سے دین و دنیا میں ہر طرح کی خیر، ہر آفت سے سلامتی اور ہر مصیبت سے عافیت
کا امیدوار ہوں، اپنے گناہوں کی معافی کے ساتھ تیرے غضب اور دوزخ کی آگ سے پناہ
مانگتا ہوں۔
اے اللہ! میرے سننے، میرے
سمجھنے اور دیکھنے کی قوت کو ہمیشہ قائم رکھ اور میرے دل کو اپنے نور سے بھر دے،
مجھے مال و دولت کے شر اور اس کی برائیوں سے پناہ میں رکھ، فقر و تنگدستی کی ذلت
اور برے انجام سے ہمیشہ مجھے بچا، دل کی تاریکی، قبر کی سختی اور عذاب سے اپنی
پناہ میں رکھ، تیرے سوا کوئی بچانے اور نجات دینے والا نہیں۔
اے اللہ! میری التجا ہے
کہ ہر وقت تیری یاد، تیری عبادت، تیری بندگی، ہر صورت سے تیری تابعداری کا حق ادا
کروں، قرآن پاک کی تلاوت کو میرے دل کی بہار، میری آنکھوں کا نور اور میرے رنج و
غم کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔
اے اللہ! تو اپنے کسی
بندے پر اس کی طاقت اور برداشت سے زیادہ بار نہیں ڈالتا، ہر ایک جو کچھ کرے گا، اس
کا نتیجہ پائے گا اور اپنے کئے کو بھگتے گا، اگر ہم بھول چوک سے کوئی غلطی کر
جائیں تو ہماری گرفت نہ کر، ہمیں ہر قسم کے کفر و نفاق، باہمی مخلالفت، بداخلاقی،
بدنیتی سے اپنے حفظ و امان میں رکھ، دل میں پیدا ہونے والے برے خیالات، اپنے کاموں
کی ابتری میں ہر بلا اور مصیبت سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو ہمیں اچانک اور بے خبری
میں نہ ہلاک کر، ہمیں یکایک اپنی پکڑ اور گرفت میں نہ لے، ہم کو ہر حق ادا کرنے،
حق بات ماننے اور حق بات کہنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! میں ایسے علم سے
جو آخرت میں کام نہ آئے اور ایسے عمل سے جو تیرے یہاں قبول نہ ہو اور ایسے قلب سے
جو تیری یاد سے غافل رہے اور ایسی نفس پرستی سے جس کی حرص و ہوس کسی طرح کم نہ ہو
اور ایسی دعا سے جو تیرے یہاں منظور نہ کی جائے ان سب چیزوں سے تیری پناہ مانگتا
ہوں۔
اے اللہ! تو پاک اور ہر
طرح سے بے عیب ہے، ہم تیری عبادت، تیری فرمانبرداری اور تیری نعمتوں کے شکر کا
پورا حق ادا نہ کر سکے تو اپنی محبت اور ایمان کو ہمارے دلوں کی زینت بنا دے،
بداعمالی اور سرکشی سے ہمیں بچا۔ دین دنیا میں اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کی
حفاظت کے لئے جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے ان سب کے لئے تیری رحمت تیری پردہ پوشی کا
طلبگار ہوں۔ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندگی دے
کر اٹھائے گا۔
اے اللہ! تو ہی ہماری
تمام ضرورتوں اور کاموں کو پورا کرنے والا، دنیا و آخرت میں ہمارا مرتبہ بلند کرنے
والا، ہماری درد بھری آواز کو سننے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ اے سب
کچھ جاننے والے ہمارے دلوں کو پاک کر، ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما۔ ہمارے گھر
والوں اور تمام مسلمان بھائیوں کو ہر مصیبت، ہر پریشانی اور تمام آفتوں سے اپنے
حفظ وامان میں رکھ۔ اے بے کسوں کے سننے والے ہم سب کو پھیلنے والی بیماریوں، خاص
طور سے لاعلاج بیماریوں، بلاؤں، قحط، گرانی سے بچا اور ہر قسم کے کھلے ہوئے یا
پوشیدہ گناہوں سے، ناپسندیدہ کاموں سے ہم سب کی حفاظت فرما۔
اے اللہ! مسلمان اپنی
بداعمالی، سرکشی اور گمراہیوں کی بدولت ہر جگہ بہت سخت مصیبت اور آزمائش میں مبتلا
ہیں۔ اے پریشان حالوں کی دعا کو قبول کرنے والے، ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہم پر
ان لوگوں کو غالب اور برسر اقتدار نہ کر جو تجھ سے نہیں ڈرتے اور ہم پر رحم نہیں
کرتے۔
اے ہمارے اللہ! جو تیری
راہ میں سربکف ہیں، جم کر صبر اور ہمت سے تیرے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، تیرا
نام بلند کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جو دین کی خدمت و مدد کر رہے ہیں، جو
اسلام کو دشمنوں سے بچانے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ مسلمان جو تیرے دشمنوں کے ملک
میں بے کس اور بے بس ہیں، تیرے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں، بے یار و مددگار مظلوموں
کی طرح اپنے ملک میں رہتے ہیں، اے زبردست قدرت والے اللہ! اپنی رحمت و کرم سے ان
سب کی مدد فرما، اسلام اور مسلمانوں کو عزت اور قوت اور برتری عطا فرما، دین کا
نام بلند کر اور جو تیرے دین کی سچی خدمت و مدد کرتے ہیں ان کی تائید اور امداد
فرما اور جو مسلمانوں کو ذلیل کریں، ان کو ذلت و خواری میں مبتلا کر، اے مدد چاہنے
والوں کے زبردست مددگار، اے مظلوموں کی فریاد سننے والے ہماری حفاظت فرما۔ ہمیں
نصرت اور کامیابی عطا فرما۔
اے ہمارے اللہ! اے عزت و
عظمت کے مالک، اے ہمیشہ قدرت اور اختیار رکھنے والے، اے سخت گیر اور زبردست قوت
والے، اپنے حکم و ارادے کو فوراً پورا کرنے والے، ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت
اور اپنا غضب نازل فرما جو تجھ سے ہمارا تعلق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تیرے چاہنے
والوں اور تیرے ان بندوں کی خوں ریزی کرتے رہتے ہیں جو حضرت محمدﷺ کی امت میں سے
ہیں۔ تو ہمارے دشمنوں کی مدد کرنے والوں میں جدائی اور اختلاف پیدا کر دے اور
دشمنوں کی ہر جماعت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
اے اللہ! حضرت محمدﷺ کے
تمام دشمنوں پر اپنا وہ غضب و عذاب نازل فرما جس سے کسی ظلم و ستم کرنے والے کو
کبھی پناہ نہ مل سکی، وہ ظالم جنہوں نے بے گناہ مسلمانوں کی خوں ریزی کی ان کے مال
و دولت پر قبضہ کیا، ان کی آبرو و عزت پر دست درازی کی، تو ہی ہماری جانب سے ان
دشمنوں کا مقابلہ کر، ان کے شر و فساد سے ان کی سازشوں سے، ان کے خطرناک ارادوں سے
ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھ۔
اے اللہ! ہمیں اور ہماری
اولاد اور تمام متعلقین کو ان تمام چیزوں اور بلاؤں سے جو ہمارے چاروں طرف پھیلی
ہوئی ہیں جن سے ہمارا ایمان کمزور اور بصیرت ختم ہو گئی۔ ہمارے دل پتھر بن گئے۔
حیاء، غیرت اور شرم کم ہو گئی۔ ہم میں ہر قسم کے گناہ پھیل گئے۔ ہم ہر طرف سے ان
گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ہمارا ملک، ہماری آبادیاں تیرے نبی کریمﷺ کے دشمنوں سے
بھری ہوئی ہیں۔ اے رحیم و کریم! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان دشمنوں کی تباہ
کاریوں سے محفوظ رکھ، ہماری ہدایت اور اصلاح فرما، ہماری حالت روز بروز ابتر ہوتی
جا رہی ہے ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ہماری دعاؤں کے لئے قبولیت کے دروازے کھول دے،
تو ہی ہر پریشان حال اور بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے، اے بے پناہ قدرت و عظمت
والے پروردگار ہم کو دوسری قوموں کے لئے لقمہ تر نہ بنا، جس طرح کہ کھانے والے
بھوک میں دسترخوان پر لپکتے ہیں ہم کو اپنی کثرت تعداد کے باوجود خس و خاشاک کی
طرح سیلاب بہا کر نہ لے جائے۔ ہمیں وہ ایمانی قوت عطا کر جس سے ہمارے دشمنوں کے
دلوں پر ہماری ہیبت اور رعب قائم رہے۔ ہمارے دلوں میں کمزوری اور خوف پیدا نہ ہو
اور ہمارے دلوں پر دنیا کی محبت غالب نہ آئے۔
اے اللہ! رحمتہ للعالمین
محمدﷺ کے دین کی تائید اور حفاظت فرما۔ دین کی مدد کرنے والوں کی نصرت فرما جس نے
اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی، توہین، بے عزتی کی تو اسے ذلیل و خوار کر دے۔
اے اللہ! تو جبار و قہار
ہے۔ اپنا غضب، اپنا عذاب اور ہر قسم کی بلائیں اپنے دشمنوں پر نازل فرما، ان کے
دلوں میں خوف و دہشت پیدا کر دے، ان کی شکل و صورت کو بگاڑ دے، تو ہی ہمارے دکھ
درد کو سن سکتا ہے، تجھ ہی سے ہم مدد کے طلبگار ہیں، تیرے سوا ہمارا کوئی معبود و
مددگار نہیں۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کی
اصلاح فرما دے، ہم میں باہمی محبت و ہمدردی پیدا کر دے اور آپس کے جھگڑوں، ایک
دوسرے کی اذیت، بغض و عداوت سے محفوظ رکھ۔ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ محبت
کا تعلق اور بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہم تیری بارگاہ
اور اس میدان رحمت میں اپنے تمام گناہوں کی معافی کی امید لے کر آئے ہیں۔ ہمیں
اپنی رحمت سے محروم نہ رکھ، تو بڑا رحیم و کریم ہے، ہمارے حال پر رحم و کرم فرما،
گناہوں سے ہماری حفاظت فرما تا کہ ہم تیرے عذاب سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔
اے اللہ! ہمارے ملک اور
ہمارے وطن پاکستان کی بھی حفاظت فرما، اسے اپنی امان میں رکھ اور اسے دشمنوں کے شر
سے محفوظ رکھ۔ اے رب العزت اگر کچھ لوگ ملک میں بدامنی، انتشار اور عصبیت پھیلانا
چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ناپاک ارادوں سے باز رکھ اور انہیں توفیق دے کہ ان کے
دلوں میں اپنے ملک کی محبت، اپنے ملک کے استحکام اور بقا کے لئے کام کرنے کا جذبہ
پیدا ہو۔ اے اللہ! اگر کچھ لوگ منفی انداز میں سوچتے ہوں انہیں مثبت انداز میں
سوچنے کی توفیق عطا فرما۔ جو لوگ تخریبی ذہن رکھتے ہوں انہیں تعمیری ذہن میں بدل
دے۔ اے ہمارے پروردگار! پاکستان کے ہر شہری کو یہ توفیق دے کہ اس کا دل تعصب، گروہ
بندی اور فرقہ پرستی کے گھناؤنے خیالات سے پاک ہو اور وہ ہر فرقے اور ہر طبقے کے بھائیوں
کے ساتھ محبت و آشتی اور امن اور سکون کے ساتھ رہے۔ اے اللہ ہم سب کو حلال روزی
حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ رشوت، نفع خوری، ذخیرہ اندوزی اور حرام و ناجائز
طریقوں سے کمانے کے رجحان کو مٹا دے اور تو نے اپنے کلام کے ذریعے قرآن حکیم میں
جائز طریقوں سے روزی کمانے کے جو اصول بتائے ہیں اور جن احکامات کی تلقین کی ہے
لوگوں کو ان پر کاربند کر اور ان کے دلوں میں اپنا خوف پیدا کر۔ اے پروردگار!
ہماری سرزمین پاک کو ہر
برائی سے پاک کر دے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلام کا مضبوط قلعہ بنا دے
اور ان لوگوں کو ہمت، جرأت اور استقامت دے جو اس پاک سر زمین پر اپنی اپنی بساط کے
مطابق تیرے احکامات کے نافذ کرنے کی سعی اور کوشش کر رہے ہیں۔ اے اللہ! ان لوگوں
کو کامیابی سے ہمکنار کر جو زندگی کے مختلف شعبوں میں دین کی خدمت کر رہے ہیں
انہیں اس کا اجر جمیل عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
حوالہ کتاب : روحانی حج و عمرہ
Labels:
Arfat,
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Dua,
Hajj,
khwaja shamsuddin azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Spiritualism,
Sufism,
Waqoof Arfat,
Waqoof Arfat ke Dua
Sep 22, 2015
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ - طواف
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Hajj,
khwaja shamsuddin azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohaniat,
Spiritualism,
Sufism,
Tawaaf,
Umrah
Sep 20, 2015
اندر کے شیطان کو شکست
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Hajj,
Kanker,
Khwaja Shamsuddin Azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohaniat,
shettan,
Spiritualism,
Sufism
Subscribe to:
Posts (Atom)








