Showing posts with label Sufim. Show all posts
Showing posts with label Sufim. Show all posts
Apr 19, 2017
May 21, 2016
ساقی ہے شبِ برات پانے کی رات
Labels:
Azeemia,
khwaja shamsuddin azeemi,
Muraqba,
Qalander Baba Auliya,
Rubaiyaat,
Shab-e-Barat,
Sufi Kalaam,
Sufi Poetry,
Sufim,
رباعیات قلندر بابا اولیاء,
شب برات
Mar 29, 2016
عُلومِ ظاہری اور قوتِ متخیلہ
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
khwaja shamsuddin azeemi,
Let's Think,
meditation,
Muraqba,
Rohaniat,
Soul,
Spiritualism,
Sufim,
روح,
قلندرشعور,
قوت متخیلہ,
مراقبہ
Sep 10, 2015
حرم میں40 نمازوں کی حکمت - تحریر: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
۴۰ نمازیں پڑھنے کی حکمت
ثواب، نیکی اور اجر اللہ کا خصوصی انعام ہے۔ نظام کائنات کا
پورا سسٹم نور اور روشنی پر قائم ہے۔ یہ نور اور روشنی لہروں میں نازل ہوتا رہتا
ہے۔ ایک نیکی کا مطلب ہے کہ بندہ ایک روشنی سے سیراب ہو گیا ہے۔ صلوٰۃ کا مطلب ہے
کہ اللہ سے تعلق قائم کرنا۔
ایک نماز کے ثواب کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کا اپنے رب سے یک
گونہ تعلق مزید بڑھ گیا ہے۔ اور ایک لاکھ ثواب کا مطلب ہے کہ صلوٰۃ قائم کرنے والے
بندے یا بندی کا اپنے اللہ سے ایک لاکھ گنا تعلق میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مذہبی اعتبار سے چالیس کے عدد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن
میں کئی جگہ اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر
بلایا اور چالیس دن رات مستقل طور پر اللہ تعالیٰ کے دھیان میں رہنے کا حکم دیا۔
ان چالیس دن راتوں میں حضرت موسیٰ ؑ پر لاشعوری حواس کا غلبہ رہا۔ چالیس دن
بعد شریعت موسوی کے احکامات تختیوں پر لکھے ہوئے نازل فرمائے۔
حضرت محمدﷺ کو نبوت سے چالیس سال کی عمر میں سرفراز کیا گیا۔
اس کے علاوہ قرآن کی رو سے چالیس سال کی عمر تک بندے کو عارضی دنیا سے اپنا دامن
ہٹا لینا چاہئے اور زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہنا چاہئے۔ چالیس سال کی
عمر تک عقل انسانی میں فہم داخل ہو جاتا ہے اور آدمی کائنات کے نظام کو سمجھنے
لگتا ہے۔ وظائف اور چلے بھی عموماً چالیس دن کے ہوتے ہیں۔
روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے جو اسباق دیئے جاتے ہیں
وہ بھی عموماً چالیس دن کے ہوتے ہیں۔ غرض کہ چالیس کا عدد ذہنی اور روحانی صلاحیتوں
کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ حضور پاکﷺ کے روضہ مبارک پر ۴۰ نمازیں پڑھنے کے متعلق روایت ہے۔
لوگ حج سے پہلے یا حج کے بعد مدینہ منورہ میں قیام کر کے
چالیس نمازیں مسجد نبوی میں پابندی سے ادا کرتے تھے۔ مسجد نبوی میں حضور پاکﷺ کا روضہ مبارک ہے۔ جہاں
آپ رسول اللہﷺ محو استراحت ہیں۔ مسجد نبوی آپ رسول اللہﷺ کا حرم ہے۔ یہاں جنت کا
راستہ ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کا مسجد نبوی میں آنا جانا رہتا ہے۔ مدینہ منورہ میں قیام
کے دوران اکثر زائرین آپ رسول اللہﷺ کی خواب میں یا حالت بیداری میں زیارت کرتے
ہیں۔
چالیس نمازیں ادا کرنے کے لئے کم از کم آٹھ دن مسجد نبوی میں
پانچوں وقت کی حاضری ہوتی ہے۔ ذہن زیادہ تر حضور پاکﷺ کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ جس
کی وجہ سے حضور پاکﷺ کے انوار اور روشنیاں ذہن میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ لوگوں کے
اندر آپ رسول اللہﷺ کی طرز فکر منتقل ہوتی ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کی محبت کی کشش دلوں
کو آپ کی جانب کھینچتی ہے۔
ذہن و دل میں یہ بات یقین کے درجے تک پہنچ جاتی ہے کہ آپ رسول
اللہﷺ کی ذات اعلیٰ ترین تخلیق ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کی ذات اقدس سید البشر ہے۔ جس کا
بنانے والا احسن الخالقین ہے۔ بشری پیراہن میں رہتے ہوئے جس طرح آپ رسول اللہﷺ نے
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بشر ہونے کے ناطے انسان کے دل
میں یہ خواہش جاگ اٹھتی ہے کہ میں بھی اپنی اندر کی صلاحیتوں سے کام لوں اور میری
وجہ سے آخرت میں میرے پیارے نبی حضورﷺ مجھ سے خوش ہوں۔
چالیس نمازیں قائم کرنے کی حکمت یہ ہے کہ مسجد نبوی میں زیادہ
سے زیادہ وقت گزارا جائے۔ تا کہ حضورﷺ سے ذہنی اور قلبی رابطہ قائم ہو جائے۔ ذہن
نور نبوت کو قبول کرنے کے قابل ہو جائے۔ اور جس طرح آپ رسول اللہﷺ نے اللہ کو
جانا، پہچانا اور اپنی روحانی صلاحیتوں کے ساتھ اللہ پاک کی ہستی کا مشاہدہ کیا۔
رحمت العالمین کی رحمت سے یہ صلاحیتیں آپ رسول اللہﷺ کے روضہ مبارک پر نمازیں ادا
کرنے سے ہمارے اندر بھی بیدار ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ
کائنات میں ہر تخلیق معین مقداروں میں بنائی گئی ہے۔ چالیس کا عدد بھی ایک معین
مقدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فکر میں اس کا تعلق پیغمبروں کے ساتھ ہے جیسا کہ اوپر
بیان کیا جا چکا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لئے کوہ طور پر
بلایا گیا۔
حضور پاکﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت و رسالت سے سرفراز
کیا گیا۔ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں قائم کرنے سے رسول اللہﷺ کے امتی میں آپ رسول
اللہﷺ کی روشنیاں منتقل ہوتی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول دونوں کی خوشنودی حاصل
ہوتی ہے۔
شعور، قربت اور ماحول سے بنتا ہے۔ آدمی جس ماحول میں رہتا ہے۔
ماحول کے اثرات اس کے اوپر مرتب ہوتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان بندہ مسجد نبوی میں
مسلسل آٹھ دن آٹھ رات حضورﷺ کے حرم سے وابستہ رہتا ہے اور ذہنی مرکزیت قائم رہتی
ہے تو مسجد نبوی کا منور ماحول اس کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے اور بندے کا دل محبت
و عشق کے جذبات سے معمور ہو جاتا ہے۔ مسجد نبوی میں نمازیں ادا کرنے کا اجر بھی بہت
زیادہ ہے۔ اجر اور ثواب کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں نور کی لہریں حضورﷺ کے
امتی میں ذخیرہ ہو جاتی ہیں۔ روح توانا اور سرشار ہو جاتی ہے۔ نماز میں حضور قلب
نصیب ہو جاتا ہے۔ شکوک و شبہات اور وسوسوں سے نجات مل جاتی ہے اور بندہ اللہ کے فضل
و کرم اور رسول اللہﷺ کی نسبت سے ایسی نمازیں قائم کرتا ہے جس کے بارے میں ارشاد
ہے کہ
’’الصلوٰۃ معراج المومنین‘‘
حوالہ کتاب : روحانی حج وعمرہ
Labels:
40 Namazain,
Azeemia,
Chalees Namazain,
Dawat-e-Fikr,
Hajj,
Herm,
khwaja shamsuddin azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohaniat,
Salaat,
Spiritualism,
Sufim
Sep 9, 2015
سیاہ خانہ کعبہ اور سفید احرام
Labels:
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
Hajj,
Khwaja Shamsddin Azeemi,
Let's Think,
Muraqba,
Rohani Hajj,
Rohaniat,
Spiritualism,
Sufim
Jun 19, 2015
رمضانِ کریم - تحریر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
تحریر: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی
سوال: ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اعتکاف کی کیا اہمیت ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
سوال: ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اعتکاف کی کیا اہمیت ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
ہمارے دین کے جتنے بھی ارکان ہیں اگر
ان پر غور کیا جائے تو ارکان اسلام کی ایک حیثیت انفرادی ہے اور ساتھ ساتھ اس رکن
کی حیثیت اجتماعی ہے اگر تفکر کیا جائے تو اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اجتماعی حیثیت
کو قائم کرو انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی سوچ کو اختیار کرو اس لئے پانچ وقت
مسجدمیں اکٹھے ہوکر نماز با جماعت اداکرتے ہیں۔ اس طرح نماز جمعہ کے بعد پھر عیدین
کی نمازیں آتی ہیں۔ جس طرح کئی محلے کے افراد کسی ایک جامع مسجد میں جا کر جمعہ کی
نماز ادا کرتے ہیں اسی طرح سارے شہر کے افراد ایک جگہ جمع ہو کر نماز عید ادا کرتے
ہیں۔اسی طرح حج ایک ایسا فرض ہے جس میں ساری دنیا سے لاکھوں فرزندان توحید خانہ
کعبہ میں حاضری دیتے ہیں اور فریضہ حج ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی اجتماعی عمل
ہوا۔ رمضان کا پروگرام بھی ایک اجتماعی پروگرام ہے ایسا پروگرام کہ ساری امت مسلمہ
اللہ کے لئے پورا دن بھوکی پیاسی رہتی ہے۔ اللہ کے لئے اس نے روزہ رکھا یعنی اس نے
کھانا پینا چھوڑ دیا اس لئے کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم صبح سے شام تک بھوکے رہو تو
وہ اجتماعی طور پر صبح سے شام تک بھوکے رہتے ہیں۔ جب اللہ نے یہ چاہا کہ اب تم
بھوکے نہیں رہو تو روزہ افطار کر لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک اجتماعی عمل ہے۔ روزے سے یہ
بات سامنے آتی ہے کہ بھوک اور پیاس سے اللہ تعالیٰ کا کیا تعلق۔ اس کا صاف مطلب ہے
کہ آپ نے پیٹ کے تقاضوں کو اللہ کے لئے وقف کر دیا تو اب یہ جو بھوک پیاس کا شدید
تقاضا ہے یہ اللہ سے ہم رشتہ ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بندہ اللہ کی ذات سے قریب
ہو جاتا ہے۔
یہ ایک فائدہ ہوا دوسرا فائدہ یہ ہے
کہ جب انسان بھوکا اور پیاسا رہتا ہے ۔سارا دن تو اس کے ذہن میں اس بھوکے پیاسے
رہنے کے آداب بھی ہیں اس کو یہ معلوم ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی جھوٹ بولے تو روزہ
نہیں ہوتا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ روزہ رکھ کر اگر بے ایمانی کی جائے تو روزہ نہیں
ہوتا تو اس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ سارا دن بھوکا رہنے کے باوجود بھی اگر
میرا روزہ نہیں ہوا تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کا فائدہ کیا ہے تو نتیجہ یہ نکلتا
ہے کہ وہ روزے میں زیادہ سے زیادہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جھوٹ نہ بولے اور
زیادہ سے زیادہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ عبادت کرے۔
تیسرا فائدہ روزے کا یہ ہے کہ انسان
کی صحت اچھی رہے گی جتنی بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اس کا کسی نہ کسی طرح تعلق
پیٹ سے ہوتا ہے۔ اگر انسان کا پیٹ صحیح ہے تو وہ بیمار بھی نہیں ہوتا جو لوگ کھانے
پینے میں احتیاط کرتے ہیں۔ ان کا نظام ہضم درست رہتا ہے وہ بیمار نہیں ہوتے وہ ان
لوگوں کے مقابلے میں بہت کم بیمار ہوتے ہیں جو کھانے پینے میں بے احتیاط ہوتے ہیں۔
یہ بات ہم سب جانتے ہیں تو جب ہم صبح سے شام تک بھوکے رہیں گے اس کا نتیجہ یہ ہو
گا کہ ہمارے نظام ہضم کو طاقت ملے گی اور ہماری صحت بھی بحال ہو گی۔ ایک صحت مند
آدمی دنیاوی کام ہو یا دینی کام ہو صحیح طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔
چوتھا فائدہ روزے کا جو روحانی نقطہ
نظر سے وہ یہ ہے کہ انسان جب بھوکا رہتا ہے اور وہ بھوک اللہ کے لئے ہوتی ہے تو اس
کے اندر اللہ کے انوار ذخیرہ ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ
روزے کی جزا میں خود ہوں
یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات اللہ
تعالیٰ کے انوار و تجلیات اور روشنیاں انسان کے اندر منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں
اور جیسے جیسے وہ روشنیاں انسان کے اندر ذخیرہ ہوتی ہیں اسی مناسبت سے روح کے اندر
بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ روح کے اندر طاقت پیدا ہوتی ہے تو پہلے رمضان سے 19رمضان تک
ہر روزہ دار کے اندر ایسی صلاحیتیں بیدار اور متحرک ہو جاتی ہیں جن کا تعلق براہ
راست اللہ تعالیٰ کے انوار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نور نبوت سے ہے
اور روح نور نبوت کے انوار سے معمور ہو جاتی ہے اب جو 19دن بھوکا رہنے سے انوار
اور روشنیاں ذخیرہ ہونگی ان سے فائدہ بھی اٹھانا چاہئے۔
مثلاً آپ کے پاس ایک بہترین گاڑی ہے
اس کے اندر پیٹرول نہیں ہو گا تو گاڑی نہیں چلے گی یا اگر پیٹرول کم ہے تو گاڑی
چلے گی اور بار بار رکے گی اب اس گاڑی کی ٹینکی کو آپ نے فل کرا لیا ہے اب ٹینک جب
فل ہو گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گاڑی آپ کے سفر میں صحیح طور پر کام آئے گی اور
اگر آپ اسے نہیں چلائیں گے تو گاڑی میں پیٹرول بھرا رہے گا اور ممکن ہے بہت زیادہ
دن گزر جائیں تو وہ اڑ ہی جائے۔ مثال ناقص ہے لیکن سمجھانے کے لئے دینی پڑتی ہے
یعنی مسلمان روزے دار جب 19دن میں اپنے اندر اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا
ذخیرہ کرلیتا ہے تو اب اس کا استعمال زیر بحث آتا ہے۔ استعمال سے مراد یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ کی روشنیاں روح کو پرواز کی طرف مائل کرتی ہیں اب روح کی عالم بالا کی
طرف پرواز ہونی چاہئے۔
عالم غیب میں داخل ہو کر عالم غیب کا
مشاہدہ کرنا چاہئے۔ مشاہدے کے لئے بہت زیادہ یکسوئی کی ضرورت ہے بہت زیادہ جسمانی
سکون ضروری ہے تو اس جسمانی سکون کے لئے اور ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کے لئے اعتکاف
کا مسئلہ سامنے آتا ہے یعنی انسان اپنے دنیاوی مشاغل ترک کر کے بیوی بچوں سے دور
ہو کر گھر بار چھوڑ کر کسی ایک گوشے میں صرف اور صرف اللہ کے لئے بیٹھ جائے اور وہ
بیٹھنا دس دن کے لئے ہو۔
اب دس دنوں میں 20 کے بعد سے 21، 23، 25،
27 رمضان المبارک کی راتوں میں لیلتہ
القدر کی رات ہوتی ہے اب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:
ہم نے قرآن کو نازل کیا لیلتہ القدر
میں۔
قرآن کیا ہے قرآن ایک دستور العمل ہے
ایسا دستور العمل جو آپ کے لئے دنیاوی رہنمائی بھی کرتا ہے اور ایسا دستور العمل
جو آپ کے لئے عالم بالا اور ماورائی دنیا کے لئے بھی رہنمائی کرتا ہے۔ تو لیلتہ
القدر کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ لیلتہ القدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
ایک ہزار مہینوں سے افضل ہونے کا
مطلب یہ ہے کہ یہ رات 30ہزار دن اور 30ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ 30ہزار دن 30ہزار
راتوں کا جب ہم تذکرہ کرتے ہیں کہ انسان دن میں جاگتا ہے، بیدار رہتا ہے یعنی
بیدار رہ کر زندگی گزارتا ہے حواس خمسہ میں رہ کر زندگی گزارتا ہے جذبات و احساسات
کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور رات میں بیداری سے ہٹ کر خواب کے عالم میں زندگی
گزارتا ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو سونے کے دوران حواس کی رفتار دن کے حواس کی رفتار سے
زیادہ ہو جاتی ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ہم یہاں سوتے ہیں تو سونے کے دوران حواس کی
رفتار دن کے حواس کی رفتار سے زیادہ ہو جاتی ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ہم یہاں سوتے
ہیں اور خود کو لندن میں پاتے ہین کوئی آدمی ہمارا پیر ہلاتا ہے تو پھر ہم ایک
سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں چارپائی پر موجود ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مہینوں کا سفر
سیکنڈوں میں طے ہو جاتا ہے۔ خواب کے حواس میں ہماری رفتار بڑھ جاتی ہے اب ہم یوں
کہیں گے اس کو سائنسی نقطہ نظر سے کہ ایک رات بہتر ہے تیس ہزار خواب کے حواسوں سے
30ہزار دن کے حواس سے اب اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ایک رات بہتر ہے
ساٹھ ہزار دن اور رات سے یعنی ایک انسان جتنا سفر 60ہزار دن اور رات میں
کرتا ہے اگر اس کے اندر لیلتہ القدر کے حواس اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت سے متحرک اور بیدار ہو جائیں تو وہی بندہ ایک رات میں
ساٹھ ہزار رات اور دن کے برابر سفر کرے گا۔
اگر عبادت میں اس کا ذہن یکسو ہو گیا
اور اللہ تعالیٰ سے ربط قائم ہو گیا تو وہ ساٹھ ہزار گنا رفتار سے سفر
کرے گا۔
یہ جو لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں یہ
فی الواقع ماورائی دنیا میں داخل ہونے کا پروگرام اور صحیح بات یہ ہے کہ اگر رمضان
کے روزے 20دن تک صحیح معنوں میں رکھ لے اور اس کے بعد اعتکاف میں بیٹھا جائے تو
ذہنی مرکزیت حاصل ہونے کے بعد انسان کو مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد
ہے:
مومن کو مرتبہ احسان حاصل ہوتا ہے۔
مرتبہ احسان کے دو درجے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ محسوس کرے کہ مجھے اللہ
دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ یہ محسوس کرے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا
ہوں۔
رمضان کے پروگرام کی کامیابی کے
نتیجے میں اگر فی الواقع صحیح معنوں میں جدوجہد اور کوشش کی جائے تو مومن کو
رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے اور یہی اعتکاف بھی
ہے۔ اس لئے اعتکاف کرنا چاہئے۔
روحانی لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ کثرت
سے درود شریف، کلمہ تمجید اور قرآن پاک پڑھنا چاہئے۔ قرآن پاک کے معنی و مفہوم پر
غور و فکر کرنا چاہئے مراقبہ کرنا چاہئے۔ مراقبے سے مراد یہ ہے کہ آپ جب بھی کچھ
پڑھیں تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں اور یہ تصور کریں کہ مجھے
اللہ دیکھ رہا ہے مجھے اللہ دیکھ رہا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت سے یہ تصور قائم ہو جائے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا
ہے یہ چار پانچ دن میں ہو جاتا ہے اور اعتکاف میں آدمی بیٹھے تو پھر بقایا دن جو
ہیں اسے اس بات کا مراقبہ کرنا چاہئے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ
دُور تو نہیں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا:
میں تمہاری رگ جان سے
زیادہ قریب ہوں۔
اب یہ ہے کہ ہم اسے دیکھیں تو سہی
اسے پکاریں تو سہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جہاں تم ایک ہو وہاں میں
دوسراہوں جہاں تم دو ہو وہاں میں تیسرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے:
میں نے تو تمہیں احاطہ کیا ہوا ہے،
میں تو ایک دائرہ ہوں تم اس کے اندر ہو۔
تو یہ اللہ تعالیٰ کا جو فرمان ہے جب
ہم اس پر غور و فکر کریں گے اللہ تعالیٰ کو تلاش کریں گے اللہ تعالیٰ کہیں دور
نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بستے ہیں۔
اللہ تعالیٰ دل میں بستے ہیں، رگ جان
سے زیادہ قریب ہیں تو رمضان میں جو اعتکاف ہے اس کی بہت ہی فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ
سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکات سے فیض یاب کرے اور ہمیں توفیق دے
کہ ہم زیادہ سے زیادہ اعتکاف میں بیٹھیں اور زیادہ سے زیادہ مراقبہ کریں۔ مراقبہ
میں یہ تصور کریں کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے یا میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔
کتاب: توجیہات باب: اعتکاف رمضان
http://iseek.online/?p=3106
Labels:
Azeemi,
Azeemia,
Dawat-e-Fikr,
khwaja shamsuddin azeemi,
Muraqba,
Ramdan,
Roohaniat,
Sufim
May 26, 2015
رُوحانی علاج - ملازمت یا کاروبار کا حصول
ہماری کوشش ہے کہ ہم حضرت
خواجہ شمس الدین عظیمی کا تجویز کردہ روحانی علاج مفادِ عامہ میں اپنے بلاگ کے
ذریعے شیئر کریں جن مسائل اور پریشانیوں سے فی زمانہ تقریباََ ہر دوسرا گھر متاثر
ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ ہماری مشکلات حل فرمائے۔
اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین یا ربنا
اس علاج سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، معالج خواہ وہ خود مریض ہو یا
کسی دوسرے کا علاج کرے۔ گیارہ گیارہ مرتبہ اول آخر درود شریف پڑھے اور ایک سو ایک
مرتبہ بِسم اللہ الواسعُ جل جلالہُ پڑھ کر ہاتھوں پر دم کر کے تین بار ہاتھ چہرے
پر پھیرے۔
اب روحانی علاج (از حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی) کے تمام عملیات کی
اجازت ہے۔
Labels:
Dawat-e-Fikr,
Khwaja Shamsuddin Azeemi,
Let's Think,
Mulazmat ya Karobar,
Muraqba,
Roohani Elaj,
Spiritual Healing,
Spiritualism,
Sufim
Subscribe to:
Posts (Atom)






