Showing posts with label Salaat. Show all posts
Showing posts with label Salaat. Show all posts

Sep 19, 2015

نمازِ پنجگانہ، مراقبہ اور مرتبہ احسان


 روحانیت شاگرد کے اندر ایسی حالت پیدا کر دیتی ہے جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق اس حد تک محسوس کر لیتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔ صلوٰۃ کا پروگرام اس بات کی تکرار ہے کہ بندے کا تعلق ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ سے قائم ہے اور اللہ تعالیٰ ہر آن اس کے ساتھ موجود ہے۔ جب انسان صلوٰۃ کے اندر اس بات کی مشق مکمل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا ادراک مشاہدہ بن جاتا ہے۔ اس مقام کو رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مرتبہ احسان کا نام دیا ہے۔
نماز فجر
* نماز فجر سے تقریباً بیس منٹ پہلے تمام ضروریات سے فارغ ہو کر مصلے پر اس طرح بیٹھ جائیں جیسے التحیات پڑھتے وقت
بیٹھتے ہیں۔
* آنکھیں بند کر کے تصور کریں کہ آپ اللہ کے حضور حاضر ہیں اور اللہ آپ کے سامنے موجود ہے۔
* پانچ سے دس منٹ تک یہ تصور کرنے کے بعد نماز فجر قائم کریں۔ دوران نماز اللہ کو اپنے سامنے موجود دیکھنے کا تصور قائم رکھیں۔ نماز اس تصور میں ادا کریں کہ اللہ آپ کے سامنے موجود ہے اور آپ نماز کے تمام ارکان بارگاہ ایزدی میں انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گا اور جسم نماز کے ارکان ادا کر رہا ہو گا۔ نماز میں آیات کی تلاوت کے وقت یہ تصور کریں کہ آپ اللہ سے مخاطب ہیں۔
سلام پھیرنے کے بعد التحیات کی نشست میں بیٹھے بیٹھے چند منٹ تک اللہ کی موجودگی کا تصور جاری رکھیں۔
اگر آپ کو اللہ کو دیکھنے کا تصور قائم کرنے میں دشواری محسوس ہو تو یہ تصور کریں کہ آپ اللہ کے حضور موجود ہیں اور اللہ آپ کی تمام حرکات و سکنات ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک تصور قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر ابتداء میں تصور قائم نہ ہو سکے تو فکر مند نہ ہوں۔ متواتر اسی طریقے پر عمل پیرا رہیں۔ انشاء اللہ جلد تصور قائم ہو گا اور نماز میں اللہ کی قربت کا حقیقی لطف حاصل ہو گا۔
نمازِ ظہر اور نمازِ عصر
نماز ظہر اور عصر میں نماز سے پہلے چند منٹوں کے لئے اللہ حاضری اللہ ناظری کا ورد کریں اور اللہ کی موجودگی کا تصور کریں۔ پھر ساری رکعتیں اسی تصور کے ساتھ ادا کریں۔
نمازِ مغرب
مغرب کی نماز میں وقت کی کمی کے باعث نماز سے پہلے استغراق کی مشق اور تصور نہ کریں بلکہ ساری رکعتیں اس تصور میں ادا کریں کہ میں اللہ کے سامنے ہوں۔
نمازِ عشاء
نماز عشاء سے پہلے التحیات کی نشست میں بیٹھ کر اللہ کی موجودگی کا تصور پانچ منٹ تک کرنے کے بعد فرض نماز اسی تصور میں قائم کریں۔
رات کو سونے سے پہلے کسی بھی آرام دہ نشست میں بیٹھ کر اللہ کو دیکھنے کا تصور یا یہ تصور کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے، دس منٹ تک قائم رکھیں اور پھر سو جائیں۔
اگر نماز میں دل نہ لگے یا نمازیں بار بار قضا ہوتی ہیں تو چالیس روز نماز فجر کی نماز با جماعت ادا کریں۔ انشاء اللہ کوئی نماز قضا نہیں ہو گی۔



Sep 10, 2015

حرم میں40 نمازوں کی حکمت - تحریر: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی


۴۰ نمازیں پڑھنے کی حکمت



ثواب، نیکی اور اجر اللہ کا خصوصی انعام ہے۔ نظام کائنات کا پورا سسٹم نور اور روشنی پر قائم ہے۔ یہ نور اور روشنی لہروں میں نازل ہوتا رہتا ہے۔ ایک نیکی کا مطلب ہے کہ بندہ ایک روشنی سے سیراب ہو گیا ہے۔ صلوٰۃ کا مطلب ہے کہ اللہ سے تعلق قائم کرنا۔
ایک نماز کے ثواب کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کا اپنے رب سے یک گونہ تعلق مزید بڑھ گیا ہے۔ اور ایک لاکھ ثواب کا مطلب ہے کہ صلوٰۃ قائم کرنے والے بندے یا بندی کا اپنے اللہ سے ایک لاکھ گنا تعلق میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مذہبی اعتبار سے چالیس کے عدد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن میں کئی جگہ اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر بلایا اور چالیس دن رات مستقل طور پر اللہ تعالیٰ کے دھیان میں رہنے کا حکم دیا۔ ان چالیس دن راتوں میں حضرت موسیٰ ؑ  پر لاشعوری حواس کا غلبہ رہا۔ چالیس دن بعد شریعت موسوی کے احکامات تختیوں پر لکھے ہوئے نازل فرمائے۔
حضرت محمدﷺ کو نبوت سے چالیس سال کی عمر میں سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ قرآن کی رو سے چالیس سال کی عمر تک بندے کو عارضی دنیا سے اپنا دامن ہٹا لینا چاہئے اور زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہنا چاہئے۔ چالیس سال کی عمر تک عقل انسانی میں فہم داخل ہو جاتا ہے اور آدمی کائنات کے نظام کو سمجھنے لگتا ہے۔ وظائف اور چلے بھی عموماً چالیس دن کے ہوتے ہیں۔
روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے جو اسباق دیئے جاتے ہیں وہ بھی عموماً چالیس دن کے ہوتے ہیں۔ غرض کہ چالیس کا عدد ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ حضور پاکﷺ کے روضہ مبارک پر ۴۰ نمازیں پڑھنے کے متعلق روایت ہے۔
لوگ حج سے پہلے یا حج کے بعد مدینہ منورہ میں قیام کر کے چالیس نمازیں مسجد نبوی میں پابندی سے ادا کرتے تھے۔ مسجد نبوی میں حضور پاکﷺ کا روضہ مبارک ہے۔ جہاں آپ رسول اللہﷺ محو استراحت ہیں۔ مسجد نبوی آپ رسول اللہﷺ کا حرم ہے۔ یہاں جنت کا راستہ ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کا مسجد نبوی میں آنا جانا رہتا ہے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران اکثر زائرین آپ رسول اللہﷺ کی خواب میں یا حالت بیداری میں زیارت کرتے ہیں۔
چالیس نمازیں ادا کرنے کے لئے کم از کم آٹھ دن مسجد نبوی میں پانچوں وقت کی حاضری ہوتی ہے۔ ذہن زیادہ تر حضور پاکﷺ کی جانب متوجہ رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے حضور پاکﷺ کے انوار اور روشنیاں ذہن میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ لوگوں کے اندر آپ رسول اللہﷺ کی طرز فکر منتقل ہوتی ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کی محبت کی کشش دلوں کو آپ کی جانب کھینچتی ہے۔
ذہن و دل میں یہ بات یقین کے درجے تک پہنچ جاتی ہے کہ آپ رسول اللہﷺ کی ذات اعلیٰ ترین تخلیق ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کی ذات اقدس سید البشر ہے۔ جس کا بنانے والا احسن الخالقین ہے۔ بشری پیراہن میں رہتے ہوئے جس طرح آپ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بشر ہونے کے ناطے انسان کے دل میں یہ خواہش جاگ اٹھتی ہے کہ میں بھی اپنی اندر کی صلاحیتوں سے کام لوں اور میری وجہ سے آخرت میں میرے پیارے نبی حضورﷺ مجھ سے خوش ہوں۔
چالیس نمازیں قائم کرنے کی حکمت یہ ہے کہ مسجد نبوی میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارا جائے۔ تا کہ حضورﷺ سے ذہنی اور قلبی رابطہ قائم ہو جائے۔ ذہن نور نبوت کو قبول کرنے کے قابل ہو جائے۔ اور جس طرح آپ رسول اللہﷺ نے اللہ کو جانا، پہچانا اور اپنی روحانی صلاحیتوں کے ساتھ اللہ پاک کی ہستی کا مشاہدہ کیا۔ رحمت العالمین کی رحمت سے یہ صلاحیتیں آپ رسول اللہﷺ کے روضہ مبارک پر نمازیں ادا کرنے سے ہمارے اندر بھی بیدار ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ کائنات میں ہر تخلیق معین مقداروں میں بنائی گئی ہے۔ چالیس کا عدد بھی ایک معین مقدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فکر میں اس کا تعلق پیغمبروں کے ساتھ ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لئے کوہ طور پر بلایا گیا۔
حضور پاکﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت و رسالت سے سرفراز کیا گیا۔ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں قائم کرنے سے رسول اللہﷺ کے امتی میں آپ رسول اللہﷺ کی روشنیاں منتقل ہوتی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول دونوں کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
شعور، قربت اور ماحول سے بنتا ہے۔ آدمی جس ماحول میں رہتا ہے۔ ماحول کے اثرات اس کے اوپر مرتب ہوتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان بندہ مسجد نبوی میں مسلسل آٹھ دن آٹھ رات حضورﷺ کے حرم سے وابستہ رہتا ہے اور ذہنی مرکزیت قائم رہتی ہے تو مسجد نبوی کا منور ماحول اس کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے اور بندے کا دل محبت و عشق کے جذبات سے معمور ہو جاتا ہے۔ مسجد نبوی میں نمازیں ادا کرنے کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔ اجر اور ثواب کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں نور کی لہریں حضورﷺ کے امتی میں ذخیرہ ہو جاتی ہیں۔ روح توانا اور سرشار ہو جاتی ہے۔ نماز میں حضور قلب نصیب ہو جاتا ہے۔ شکوک و شبہات اور وسوسوں سے نجات مل جاتی ہے اور بندہ اللہ کے فضل و کرم اور رسول اللہﷺ کی نسبت سے ایسی نمازیں قائم کرتا ہے جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ
’’الصلوٰۃ معراج المومنین‘‘

 حوالہ کتاب : روحانی حج وعمرہ